حضرت نوح علیہ السلام کاطوفان اور کشتی کا قصہ
حضرت شیثؑ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ یہ ذمہ داری ان کی نیک اولاد کو منتقل ہوتی رہی۔ حضرت شیثؑ نے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو توحید، عبادت اور اچھے اخلاق کی تعلیم دی تھی، اس لیے شروع میں لوگ سیدھے راستے پر قائم رہے۔ اس دور کے لوگ سادہ زندگی گزارتے، اللہ کی عبادت کرتے اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے تھے۔ زمین پر ابھی برائی زیادہ نہیں پھیلی تھی اور انسانوں کے دلوں میں اللہ کا خوف موجود تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نسلیں بدلتی گئیں۔ حضرت شیثؑ کے بعد آنے والی اولاد میں کئی نیک اور صالح لوگ پیدا ہوئے، جنہوں نے دین کو زندہ رکھا۔ ان میں حضرت انوش، قینان، مہلیل، یارد اور ادریسؑ جیسے بزرگ شامل تھے۔ خاص طور پر حضرت ادریسؑ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی، جیسا کہ قرآن میں ان کا ذکر سورۃ مریم میں آیا ہے۔ حضرت ادریسؑ نے لوگوں کو علم، عبادت اور پاکیزہ زندگی کی طرف بلایا اور انہیں لکھنے، حساب کرنے اور محنت کی اہمیت بھی سکھائی۔

حضرت ادریسؑ کے بعد بھی کچھ عرصہ تک لوگ نیکی پر قائم رہے، لیکن آہستہ آہستہ دنیا کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہونے لگی۔ لوگ عبادت میں سستی کرنے لگے اور اپنے بزرگوں کو حد سے زیادہ عزت دینے لگے۔ ابتدا میں وہ نیک لوگوں کی یاد میں ان کے مجسمے اور نشان بناتے تھے، تاکہ انہیں دیکھ کر نیکی یاد آئے، لیکن وقت کے ساتھ یہی نشان بت بن گئے اور لوگ ان کی عبادت کرنے لگے۔

یہی وہ زمانہ تھا جب شرک اور گمراہی پھیلنے لگی۔ شیطان نے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے کہ یہ بزرگ تمہیں اللہ کے قریب کر دیں گے، اس لیے ان سے مدد مانگو۔ آہستہ آہستہ لوگ اللہ کو بھولتے گئے اور بتوں کے آگے جھکنے لگے۔ قرآن مجید میں ان بتوں کے نام بھی آئے ہیں، جیسے: ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ یہ سب اصل میں نیک انسانوں کے نام تھے، جنہیں بعد میں معبود بنا لیا گیا۔

جب زمین پر شرک، ظلم اور گناہ بہت زیادہ پھیل گئے تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی اصلاح کے لیے حضرت نوحؑ کو نبی بنا کر بھیجا۔ حضرت نوحؑ حضرت شیثؑ کی نسل سے تھے اور ایک نیک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کو صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیں اور بت پرستی سے روکیں۔


حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو دن رات سمجھایا۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اگر تم توبہ کرو گے تو اللہ تمہیں معاف کر دے گا اور برکت عطا فرمائے گا۔ لیکن اکثر لوگ ان کا مذاق اڑاتے، انہیں جھوٹا کہتے اور ان کی بات ماننے سے انکار کرتے تھے۔ صرف چند لوگ ہی ان پر ایمان لائے۔

حضرت نوحؑ نے تقریباً نو سو پچاس سال تک تبلیغ کی، لیکن قوم کی اکثریت گمراہی پر قائم رہی۔ آخرکار جب انہوں نے بہت ظلم کیا اور ہدایت قبول نہ کی تو حضرت نوحؑ نے اللہ سے دعا کی کہ اب ان نافرمان لوگوں کا فیصلہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ایک عظیم طوفان بھیجا، جس میں نافرمان قوم ہلاک ہو گئی، جبکہ ایمان والے کشتی میں محفوظ رہے۔

جب حضرت نوحؑ نے کئی سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا اور زیادہ تر لوگوں نے ہدایت قبول نہ کی، تو آخرکار اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ حقیقت واضح فرما دی کہ اب اس قوم میں سے وہی لوگ ایمان لائیں گے جو آ چکے ہیں، اس کے بعد کوئی نیا شخص ایمان نہیں لائے گا۔ یہ بات حضرت نوحؑ کے لیے بہت دکھ بھری تھی، لیکن انہوں نے اللہ کے فیصلے پر صبر کیا اور اپنی پوری توجہ اللہ کے حکم کی طرف لگا دی۔




اسی وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ وہ ایک بڑی کشتی تیار کریں، جو آنے والے عذاب کے وقت ایمان والوں کو بچانے کا ذریعہ بنے گی۔ اللہ نے انہیں فرمایا کہ یہ کشتی ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق بنائی جائے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس کا ہر حصہ اللہ کے حکم سے تیار ہوگا اور اس میں کوئی کمی یا غلطی نہیں ہونی چاہیے۔

حضرت نوحؑ نے فوراً اللہ کے حکم پر عمل شروع کر دیا۔ انہوں نے ایک خشک اور اونچی جگہ کا انتخاب کیا، جہاں عام طور پر پانی نہیں آتا تھا۔ وہاں انہوں نے لکڑی جمع کی، اوزار تیار کیے اور اکیلے یا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کشتی بنانے کا کام شروع کیا۔ یہ کام آسان نہیں تھا، کیونکہ اس زمانے میں نہ بڑی مشینیں تھیں اور نہ ہی مضبوط آلات، سب کچھ ہاتھوں سے کرنا پڑتا تھا۔

جب قوم کے لوگ حضرت نوحؑ کو خشکی پر ایک بڑی کشتی بناتے دیکھتے تو حیران ہوتے اور مذاق اڑاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو سمندر سے دور کشتی بنا رہا ہے۔ بعض لوگ ہنستے، طعنے دیتے اور کہتے کہ شاید نوحؑ پاگل ہو گئے ہیں۔ لیکن حضرت نوحؑ ہر بار نہایت صبر سے جواب دیتے کہ آج تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو، کل تم خود دیکھ لو گے کہ کس پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔

حضرت نوحؑ دن رات محنت سے کشتی بناتے رہے۔ گرمی ہو یا سردی، تھکن ہو یا بیماری، انہوں نے کام نہیں چھوڑا۔ وہ ہر لکڑی کے تختے کو مضبوطی سے جوڑتے، ہر کیل کو احتیاط سے لگاتے، اور ہر حصے کو اللہ کا نام لے کر تیار کرتے تھے۔ ان کا دل اللہ پر بھروسے سے بھرا ہوا تھا اور انہیں یقین تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔

وقت گزرتا گیا اور کشتی آہستہ آہستہ مکمل ہونے لگی۔ یہ کوئی چھوٹی کشتی نہیں تھی بلکہ ایک بہت بڑی اور مضبوط جہاز جیسی ساخت تھی، جس میں انسانوں اور جانوروں کے جوڑوں کے لیے جگہ موجود تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو بتایا تھا کہ ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا بھی اس میں سوار کرنا ہوگا، تاکہ زمین پر زندگی باقی رہے۔

آخرکار وہ دن آ گیا جب کشتی پوری طرح تیار ہو گئی۔ لکڑی مضبوط تھی، جوڑ پکے تھے، اور ہر حصہ اپنی جگہ مکمل تھا۔ حضرت نوحؑ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور آنے والے حکم کے انتظار میں رہنے لگے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ جب ایک خاص نشانی ظاہر ہوگی، یعنی تنور سے پانی ابلنے لگے گا، تو وہ سمجھ جائیں کہ عذاب کا وقت آ چکا ہے۔

حضرت نوحؑ کشتی کے پاس رہتے، دعا کرتے اور اللہ سے مدد مانگتے رہے۔ وہ جانتے تھے کہ اب بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب حق اور باطل کے درمیان آخری فیصلہ ہوگا۔ ان کے دل میں غم بھی تھا کہ ان کی قوم ہلاک ہونے والی ہے، لیکن اطمینان بھی تھا کہ اللہ ایمان والوں کو ضرور بچا لے گا۔

اس طرح حضرت نوحؑ نے اللہ کے حکم پر مکمل یقین، صبر اور محنت کے ساتھ کشتی تیار کی، جو بعد میں انسانیت کی بقا کا ذریعہ بنی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب اللہ کا حکم آ جائے تو حالات جیسے بھی ہوں، مومن کو بغیر شک کے اس پر عمل کرنا چاہیے، کیونکہ اسی میں نجات اور کامیابی ہوتی ہے۔




جب حضرت نوحؑ اللہ کے حکم سے کشتی تیار کر چکے تو وہ مسلسل اس نشانی کا انتظار کرنے لگے جس کے آنے پر انہیں کشتی میں سوار ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا تھا کہ جب تنور سے پانی ابلنے لگے گا تو سمجھ لینا کہ عذاب شروع ہونے والا ہے۔ ایک دن اچانک زمین کے اندر سے پانی ابلنے لگا اور تنور سے پانی نکلنے لگا۔ یہ ایک غیر معمولی منظر تھا، جسے دیکھ کر حضرت نوحؑ فوراً سمجھ گئے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہونے والا ہے اور اب طوفان کا وقت آ چکا ہے۔

حضرت نوحؑ نے فوراً ایمان والوں کو جمع کیا اور انہیں حکم دیا کہ سب کشتی میں سوار ہو جائیں۔ اللہ کے حکم کے مطابق ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا بھی کشتی میں داخل کیا گیا، تاکہ زمین پر زندگی باقی رہے۔ حضرت نوحؑ نے سب کو بسم اللہ پڑھ کر کشتی میں سوار ہونے کی تلقین کی اور فرمایا کہ ہمارا چلنا اور ٹھہرنا سب اللہ کے نام سے ہے۔ ایمان والے مرد، عورتیں اور بچے عاجزی اور یقین کے ساتھ کشتی میں داخل ہو گئے۔

جیسے ہی سب لوگ سوار ہو گئے، آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے اور تیز بارش شروع ہو گئی۔ زمین سے بھی جگہ جگہ سے پانی نکلنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں پورا علاقہ پانی سے بھرنے لگا۔ دریا ابلنے لگے، پہاڑوں کے دامن ڈوبنے لگے، اور ہر طرف خوفناک منظر پیدا ہو گیا۔ یہ ایک عام بارش نہیں تھی بلکہ اللہ کا عذاب تھا، جو نافرمان قوم پر نازل ہو رہا تھا۔




کشتی اللہ کے حکم سے بڑے بڑے موجوں پر تیرنے لگی۔ کبھی وہ اونچے پہاڑ جیسی لہروں پر چڑھتی اور کبھی گہری وادیوں جیسی موجوں میں اترتی، لیکن اللہ کی حفاظت میں محفوظ رہتی۔ حضرت نوحؑ دل ہی دل میں دعا کرتے رہے کہ اللہ ایمان والوں کو سلامت رکھے۔ ان کا یقین مضبوط تھا کہ اللہ اپنے وعدے کو کبھی نہیں توڑتا۔

اسی دوران حضرت نوحؑ کی نظر اپنے ایک بیٹے پر پڑی جو کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ وہ الگ ایک جگہ کھڑا تھا اور پانی تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ حضرت نوحؑ کو باپ ہونے کے ناطے اس پر بہت ترس آیا۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا: “اے میرے بیٹے، ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔” یہ آواز درد اور محبت سے بھری ہوئی تھی۔

حضرت نوحؑ کے بیٹے نے جواب دیا: “میں کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا، وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔” اس نے اللہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی عقل اور طاقت پر اعتماد کیا۔ حضرت نوحؑ نے فوراً فرمایا: “آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرمائے۔” لیکن بیٹا اپنی ضد پر قائم رہا۔




اسی لمحے ایک بڑی موج آئی اور حضرت نوحؑ اور ان کے بیٹے کے درمیان آ گئی۔ وہ موج اتنی طاقتور تھی کہ بیٹے کو اپنے ساتھ بہا لے گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پانی میں ڈوب گیا اور ہلاک ہو گیا۔ حضرت نوحؑ یہ منظر دیکھ کر بہت غمگین ہو گئے، لیکن انہوں نے اللہ کے فیصلے پر صبر کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ کا حکم سب سے برتر ہے۔

طوفان کئی دنوں تک جاری رہا۔ زمین پر موجود ہر چیز پانی میں ڈوب گئی، سوائے ان کے جو کشتی میں تھے۔ آخرکار جب اللہ نے چاہا تو بارش رک گئی، زمین نے اپنا پانی واپس لینا شروع کیا، اور آسمان صاف ہونے لگا۔ پانی آہستہ آہستہ کم ہونے لگا اور کشتی ایک پہاڑ پر جا کر ٹھہر گئی۔

اس طرح حضرت نوحؑ اور ایمان والے اللہ کی مدد سے محفوظ رہے، جبکہ نافرمان لوگ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صرف رشتہ، عقل، یا طاقت انسان کو نہیں بچا سکتی، بلکہ اصل نجات صرف اللہ پر ایمان اور اس کی اطاعت میں ہے۔




جب طوفان ختم ہوا اور زمین سے پانی اترنے لگا تو حضرت نوحؑ کی کشتی اللہ کے حکم سے پہاڑ جودی پر جا کر ٹھہر گئی۔ چاروں طرف خاموشی چھا گئی تھی۔ وہ زمین جو پہلے آباد تھی، اب ویران ہو چکی تھی۔ درخت ٹوٹے ہوئے تھے، بستیاں ختم ہو چکی تھیں، اور ہر طرف پانی کے نشانات باقی تھے۔ حضرت نوحؑ اور ان کے ساتھیوں نے یہ منظر دیکھا تو ان کے دلوں میں اللہ کا خوف اور شکر دونوں پیدا ہوئے، کیونکہ صرف اللہ ہی نے انہیں اس بڑی تباہی سے بچایا تھا۔

جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملی تو حضرت نوحؑ سب ایمان والوں کے ساتھ کشتی سے اترے۔ سب نے سجدہ شکر ادا کیا اور اللہ کی حمد بیان کی۔ وہ جانتے تھے کہ اب ایک نئی زندگی کا آغاز ہونے والا ہے۔ زمین دوبارہ آباد کرنا، فصلیں اگانا، گھر بنانا، اور نسل کو آگے بڑھانا، اب سب انہی کی ذمہ داری تھی۔

حضرت نوحؑ نے سب سے پہلے لوگوں کو یہ نصیحت کی کہ اس نئی زندگی کی بنیاد اللہ کی اطاعت پر رکھو۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم اسی لیے بچے ہیں تاکہ دوبارہ شرک، ظلم اور نافرمانی میں نہ پڑیں۔ سب نے وعدہ کیا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے احکام پر چلیں گے۔




آہستہ آہستہ لوگ زمین کے مختلف حصوں میں پھیلنے لگے۔ انہوں نے درخت لگائے، کھیت بنائے، جانور پالے، اور اپنے لیے رہائش بنائی۔ شروع میں زندگی بہت سادہ تھی۔ نہ بڑی عمارتیں تھیں اور نہ عیش و آرام۔ لوگ محنت کرتے، ایک دوسرے کی مدد کرتے، اور اللہ سے دعا کرتے رہتے تھے۔

حضرت نوحؑ اس نئے معاشرے کے رہنما تھے۔ وہ لوگوں کے جھگڑے حل کرتے، بچوں کو دین سکھاتے، اور سب کو نیکی کی تلقین کرتے تھے۔ وہ اکثر پچھلے عذاب کا ذکر کر کے لوگوں کو سمجھاتے کہ اگر دوبارہ گناہ پھیل گیا تو اللہ کی ناراضی آ سکتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ سیدھے راستے پر رہنا ضروری ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ حضرت نوحؑ کے بیٹوں سے نئی نسلیں پھیلیں۔ انہی کی اولاد سے بعد میں مختلف قومیں وجود میں آئیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق دنیا کی بڑی قومیں انہی نسلوں سے نکلیں۔ اس طرح انسانیت کو ایک نئی شروعات ملی۔

حضرت نوحؑ نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں بھی عبادت اور نصیحت کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے لوگوں کو ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی تلقین کی۔ جب ان کا وقت پورا ہوا تو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن اپنے پیچھے ایمان، صبر اور قربانی کی ایک عظیم مثال چھوڑ گئے۔

طوفان کے بعد کی یہ زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ جب کسی قوم کو نئی شروعات دیتا ہے تو یہ ایک امتحان بھی ہوتا ہے۔ اگر لوگ شکر گزار رہیں اور ہدایت پر قائم رہیں تو ترقی پاتے ہیں، اور اگر دوبارہ نافرمانی کریں تو زوال آ جاتا ہے۔ حضرت نوحؑ کی زندگی ہمیں ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھنے اور حق پر قائم رہنے کا درس دیتی ہے۔