حضرت شیثؑ، حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے وہ بیٹے تھے جو حضرت ہابیلؑ کی شہادت کے بعد پیدا ہوئے۔ قابیل کے ظلم اور بھائی کے قتل کے بعد حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ بہت غمگین تھتھے۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک نیک اور صالح بیٹا عطا فرمایا، جس کا نام شیثؑ رکھا گیا۔ اسلامی روایات کے مطابق “شیث” کا مطلب اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا تحفہ ہے۔ یہ بیٹا حضرت آدمؑ کے لیے صبر، سکون اور امید کا سبب بنا اور ان کے دل کے زخموں پر مرہم ثابت ہوا۔



حضرت شیثؑ کی پرورش براہِ راست حضرت آدمؑ کی نگرانی میں ہوئی۔ چونکہ حضرت آدمؑ اللہ کے نبی تھے، اس لیے انہوں نے اپنے بیٹے کو شروع ہی سے توحید، عبادت، سچائی، صبر اور اچھے اخلاق کی تعلیم دی۔ حضرت شیثؑ بچپن ہی سے نہایت نرم دل، خاموش طبیعت اور عبادت گزار تھے۔ وہ دنیا کی فانی چیزوں سے زیادہ اللہ کی رضا کو اہمیت دیتے تھے اور ہمیشہ اپنے والد کی باتوں پر عمل کرتے تھے۔

جب حضرت آدمؑ کی عمر پوری ہونے لگی اور وفات کا وقت قریب آیا تو اللہ کے حکم سے انہوں نے حضرت شیثؑ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ حضرت آدمؑ نے انہیں وصیت کی کہ وہ اللہ کے دین کو قائم رکھیں، لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں، برائی سے روکیں، اور انصاف کے ساتھ فیصلے کریں۔ حضرت شیثؑ نے اپنے والد کی یہ امانت پوری ذمہ داری کے ساتھ قبول کی اور اپنی زندگی اللہ کی اطاعت کے لیے وقف کر دی۔




وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نسلیں بدلتی گئیں۔ حضرت شیثؑ کے بعد آنے والی اولاد میں کئی نیک اور صالح لوگ پیدا ہوئے، جنہوں نے دین کو زندہ رکھا۔ ان میں حضرت انوش، قینان، مہلیل، یارد اور ادریسؑ جیسے بزرگ شامل تھے۔ خاص طور پر حضرت ادریسؑ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی، جیسا کہ قرآن میں ان کا ذکر سورۃ مریم میں آیا ہے۔ حضرت ادریسؑ نے لوگوں کو علم، عبادت اور پاکیزہ زندگی کی طرف بلایا اور انہیں لکھنے، حساب کرنے اور محنت کی اہمیت بھی سکھائی۔

اسلامی روایات کے مطابق حضرت شیثؑ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے بھی نوازا، اگرچہ قرآن مجید میں ان کا نام صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے ان پر کچھ صحیفے نازل فرمائے، جن میں عبادت، اخلاق اور زندگی گزارنے کے اصول سکھائے گئے تھے۔ حضرت شیثؑ اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے، شرک اور گناہوں سے روکتے، اور سادہ و پاکیزہ زندگی اختیار کرنے کی تلقین کرتے تھے۔




حضرت شیثؑ نے اپنے زمانے کے لوگوں میں دینِ حق کو پھیلانے کے لیے مسلسل محنت کی۔ وہ لوگوں کو سچ بولنے، حلال روزی کمانے، والدین کی اطاعت کرنے، اور ظلم و فریب سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔ ان کی زندگی کا زیادہ تر وقت عبادت، دعا اور تبلیغ میں گزرتا تھا۔ وہ دنیاوی مال و دولت کے پیچھے نہیں بھاگتے تھے بلکہ اللہ کی رضا کو سب سے بڑی کامیابی سمجھتے تھے۔

قرآن مجید میں اگرچہ حضرت شیثؑ کا نام براہِ راست نہیں آیا، لیکن قرآن یہ اصول بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں ہدایت دینے کے لیے نبی بھیجے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدمؑ کے بعد بھی اللہ نے انسانوں کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا، جس میں حضرت شیثؑ بھی روایات کے مطابق شامل تھے۔ اس طرح وہ انسانیت کے ابتدائی دور کے اہم رہنما شمار ہوتے ہیں۔

یہی وہ زمانہ تھا جب شرک اور گمراہی پھیلنے لگی۔ شیطان نے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے کہ یہ بزرگ تمہیں اللہ کے قریب کر دیں گے، اس لیے ان سے مدد مانگو۔ آہستہ آہستہ لوگ اللہ کو بھولتے گئے اور بتوں کے آگے جھکنے لگے۔ قرآن مجید میں ان بتوں کے نام بھی آئے ہیں، جیسے: ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر۔ یہ سب اصل میں نیک انسانوں کے نام تھے، جنہیں بعد میں معبود بنا لیا گیا۔




جب زمین پر شرک، ظلم اور گناہ بہت زیادہ پھیل گئے تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی اصلاح کے لیے حضرت نوحؑ کو نبی بنا کر بھیجا۔ حضرت نوحؑ حضرت شیثؑ کی نسل سے تھے اور ایک نیک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔

روایات کے مطابق حضرت شیثؑ نے طویل عمر پائی اور اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی خدمت میں گزار دی۔ وفات سے پہلے انہوں نے بھی اپنی ذمہ داریاں اگلی نسل کو منتقل کیں، تاکہ ہدایت کا سلسلہ قائم رہے۔ ان کے بعد آنے والی نسلوں میں سے ہی آگے چل کر حضرت نوحؑ جیسے عظیم نبی پیدا ہوئے، جنہوں نے دوبارہ انسانیت کی اصلاح کا کام سنبھالا۔


اس طرح حضرت شیثؑ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ غم اور آزمائش کے بعد بھی اللہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور نیک لوگوں کو انسانوں کی رہنمائی کے لیے منتخب کرتا ہے۔ حضرت شیثؑ نے اپنے والد حضرت آدمؑ کی تعلیمات کو آگے بڑھایا اور توحید، صبر اور تقویٰ کی روشن مثال قائم کی، جو آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔