کشمیر برصغیر کا ایک خوبصورت مگر بدقسمت خطہ ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم، ناانصافی، اور بے یقینی کا شکار ہے۔ 1947 میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو ریاست جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ بن گئی۔ اس وقت کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ تھے، جو ابتدا میں پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بعد میں حالات خراب ہوئے، بھارت نے اپنی فوج کشمیر میں داخل کی، اور اس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ ہوئی۔ 1949 میں اقوامِ متحدہ کی مدد سے جنگ بند ہوئی اور کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، لیکن ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ کشمیری عوام سے رائے شماری کروائی جائے گی، تاکہ وہ خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں، مگر افسوس کہ یہ وعدہ آج تک پورا نہ ہو سکا۔
وقت گزرتا گیا اور کشمیری عوام میں مایوسی بڑھتی چلی گئی۔ خاص طور پر 1989 کے بعد حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا، جب نوجوانوں نے بھارتی حکومت کے خلاف منظم مزاحمت شروع کی۔ اس کے جواب میں بھارت نے کشمیر میں بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی، سخت قوانین نافذ کیے، کرفیو لگایا، گھروں پر چھاپے مارے، اور تلاشی آپریشن شروع کیے۔ اس دور میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد، بے گناہ شہریوں کی گرفتاریاں، اور پیلٹ گن کے ذریعے نوجوانوں کی آنکھوں کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ ان واقعات نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں تباہ کر دیں اور کئی گھرانے آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
5 اگست 2019 کو کشمیر کی تاریخ کا ایک اور المناک باب اس وقت لکھا گیا، جب بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔ اس فیصلے کے فوراً بعد پورے علاقے میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا، فون اور انٹرنیٹ بند کر دیے گئے، سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا، اور عام لوگوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں لگا دی گئیں۔ کئی مہینوں تک کشمیری دنیا سے کٹے رہے۔ اس دوران کاروبار تباہ ہو گئے، طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی، بیمار افراد کو علاج میں مشکلات پیش آئیں، اور عوام شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہو گئے۔
کشمیر میں جاری ظلم اور مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کشمیری عوام کو آج تک ان کا حقِ خود ارادیت نہیں دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ ہونا، سیاسی مسئلے کو فوجی طاقت سے دبانے کی کوشش، کشمیریوں کی آواز کو بغاوت سمجھ کر کچلنا، اور عالمی برادری کی خاموشی، یہ سب عوامل مل کر اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے چلے گئے۔ اگر شروع میں ہی اس مسئلے کو انصاف اور مکالمے کے ذریعے حل کر لیا جاتا تو شاید آج حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔
پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی زندہ ہے۔ اس دن ملک بھر میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں، دعائیں کی جاتی ہیں، تقاریب منعقد ہوتی ہیں، اور انسانی زنجیر بنا کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ اتحاد کا پیغام دیا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک سرکاری تعطیل نہیں، بلکہ ایک قومی عہد کی علامت ہے کہ پاکستانی قوم ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ظلم کے خلاف خاموش رہنا بھی جرم کے برابر ہے۔ ہمیں ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے، انصاف کا مطالبہ جاری رکھنا چاہیے، اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو زندہ رکھنا چاہیے۔ کشمیر صرف ایک جغرافیائی علاقہ نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کی امیدوں، قربانیوں، اور خوابوں کی داستان ہے، جو آج بھی اپنے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ 1947 سے لے کر آج تک کشمیر ظلم، ناانصافی، اور قربانیوں کی ایک طویل داستان بن چکا ہے۔ کئی نسلیں انصاف کی منتظر گزر گئیں، مگر مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ 5 فروری ہمیں ہر سال یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم کشمیر کو نہیں بھولیں گے، ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے، اور حق و انصاف کی آواز ہر حال میں بلند کرتے رہیں گے۔
5 فروری کا اصل پیغام
یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ:
ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہنا چاہیے
مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے
انصاف کا مطالبہ جاری رکھنا چاہیے
کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک علاقہ نہیں، بلکہ ایک زندہ مسئلہ ہے۔



0 Comments