وٹامن A ایک بہت اہم وٹامن ہے جو جسم کی آنکھوں، جلد، مدافعتی نظام اور مجموعی صحت کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ ییییوٹامن چکنائی میں حل ہونے والا وٹامن ہے، یعنی یہ جسم میں محفوظ ہو جاتا ہے اور روز روز بہت زیادہ مقدار میں لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
وٹامن A کے بڑے فائدے
1. آنکھوں کی صحت وٹامن A نظر کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ رات کو دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس کی کمی سے رات کو اندھا پن ہو سکتا ہے۔
2. مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے یہ جسم کو بیماریوں اور انفیکشن سے بچاتا ہے۔
زخم جلد بھرنے میں مدد دیتا ہے۔
3. جلد اور بالوں کے لئے فائدہ جلد کو صاف، نرم اور تروتازہ رکھتا ہے۔
مہاسوں اور خشکی میں کمی لاتا ہے۔
بالوں کی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔
4. بچوں کی نشوونما بچوں کی ہڈیوں اور دانتوں کی درست نشوونما میں مدد دیتا ہے۔
5. اندرونی اعضاء کی حفاظت پھیپھڑوں، آنتوں اور معدے کو صحت مند رکھتا ہے۔
وٹامن A کہاں پایا جاتا ہے؟
وٹامن A دو طرح سے ملتا ہے:
1. جانوروں سے حاصل ہونے والا وٹامن A یہ براہ راست جسم میں جذب ہو جاتا ہے۔
کلیجی
دودھ
مکھن
پنیر
انڈے کی زردی
مچھلی کا تیل
2. پھلوں اور سبزیوں سے حاصل ہونے والا وٹامن A یہ اصل میں بیٹا کیروٹین ہوتا ہے جو جسم میں جا کر وٹامن A بنتا ہے۔
وہ پھل جن میں وٹامن A پایا جاتا ہے (مقدار کے ساتھ)
آم
وٹامن A سے بھرپور
ایک درمیانہ آم روزانہ کی اچھی مقدار دے دیتا ہے۔
پپیتا
آنکھوں اور جلد کے لئے بہت مفید
ایک کپ پپیتا کافی مقدار دیتا ہے۔
خوبانی
تازہ اور خشک دونوں فائدہ مند
خشک خوبانی میں مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
خربوزہ
گرمیوں میں بہترین پھل
ایک کپ خربوزہ اچھی مقدار فراہم کرتا ہے۔
آڑو
ہلکی مقدار میں وٹامن A ہوتا ہے
باقاعدہ استعمال فائدہ دیتا ہے۔
سبزیاں جن میں وٹامن A زیادہ ہوتا ہے
گاجر
پالک
شلجم کے پتے
ساگ
شملہ مرچ
کدو
خاص طور پر گاجر اور پالک وٹامن A کے بہترین ذرائع ہیں۔
روزانہ وٹامن A کی ضرورت
مردوں کے لئے تقریباً 900 مائیکروگرام
عورتوں کے لئے تقریباً 700 مائیکروگرام
بچوں کے لئے عمر کے حساب سے کم مقدار
وٹامن A کی کمی کے نقصانات
نظر کمزور ہونا
رات کو نظر نہ آنا
جلد خشک ہونا
بار بار بیمار ہونا
بچوں کی نشوونما رک جانا
زیادہ مقدار لینے کا نقصان
کیونکہ یہ وٹامن جسم میں جمع ہو جاتا ہے، اس لئے بہت زیادہ استعمال نقصان دے سکتا ہے۔
سر درد
متلی
جگر کو نقصان
بالوں کا زیادہ گرنا
اسی لئے قدرتی غذا سے لینا بہتر ہے، دوائی صرف ڈاکٹر کے مشورے سے لینی چاہئے۔


0 Comments