حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام سے اولاد کا سلسلہ شروع ہوا۔ روایات کے مطابق ہر حمل میں
حضرت حوا علیہا السلام کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوتے تھے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ اللہ کے حکم کے مطابق ایک حمل کے لڑکے کا نکاح دوسرے حمل کی لڑکی سے کیا جاتا تھا، تاکہ نسل آگے بڑھے اور آپس میں فساد نہ ہو۔ حضرت آدم علیہ السلام اپنی اولاد کی تربیت خود فرماتے تھے، انہیں اللہ کی عبادت، سچائی اور انصاف کا درس دیتے تھے۔
حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں میں ہابیل اور قابیل کا واقعہ سب سے زیادہ مشہور اور عبرت ناک ہے۔ قابیل پیشے کے
اعتبار سے کھیتی باڑی کرتا تھا، جبکہ ہابیل مویشی پالتا تھا۔ ایک وقت آیا جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے دونوں کو قربانی پیش کرنے کا کہا گیا۔ قربانی دراصل اللہ کی رضا کے لیے دی جاتی تھی اور اس کی قبولیت ایک خاص نشانی سے ظاہر ہوتی تھی۔ ہابیل نے دل کی خوشی اور خلوص کے ساتھ اپنی بہترین چیز اللہ کی راہ میں پیش کی، یعنی ایک اچھا جانور۔ اس کے برعکس قابیل نے مجبوری اور دل کی تنگی کے ساتھ اپنی فصل میں سے ناقص چیز قربانی کے لیے پیش کی۔
اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرما لی اور قابیل کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے قابیل کے دل میں حسد اور غصہ پیدا ہوا۔ اس نے اپنے بھائی ہابیل سے کہا کہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ ہابیل نے نہایت صبر اور نرمی سے جواب دیا کہ اللہ صرف متقی لوگوں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا، کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔
قابیل پر حسد اس قدر غالب آ گیا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا۔ یہ انسانیت کی تاریخ کا پہلا قتل تھا۔ قتل کے بعد قابیل سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اپنے بھائی کی لاش کے ساتھ کیا کرے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کو کرید کر دکھانے لگا تاکہ قابیل کو سکھایا جائے کہ مردے کو کیسے دفن کیا جاتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر قابیل شرمندہ ہوا اور کہنے لگا کہ افسوس، میں اس کوّے جتنا بھی عقل مند نہ ہو سکا۔
حضرت آدم علیہ السلام کو جب ہابیل کے قتل کی خبر ملی تو انہیں سخت صدمہ پہنچا۔ یہ ان کے لیے بہت بڑی آزمائش تھی، کیونکہ انہوں نے اپنی اولاد میں پہلی بار ظلم، حسد اور خونریزی دیکھی۔ اس واقعے کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو یہ واضح پیغام دیا کہ حسد، غصہ اور نافرمانی انسان کو انتہائی گناہ تک لے جاتی ہے، جبکہ تقویٰ، صبر اور اخلاص انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔
ہابیل اور قابیل کا واقعہ دراصل پوری انسانیت کے لیے ایک مستقل سبق ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ کے ہاں
عمل کی قدر نیت اور تقویٰ سے ہوتی ہے، نہ کہ صرف ظاہری چیزوں سے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی زمین پر زندگی اور ان کی اولاد کا یہ پہلا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اللہ کی اطاعت، انصاف اور صبر میں ہے، اور یہی اصول قیامت تک انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ رہیں گے۔
قابل نے جب حسد اور غصے میں آ کر اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا تو اس کے بعد وہ سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ یہ انسانیت کی تاریخ کا پہلا قتل تھا، اس لیے قابل کو یہ بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب کیا کرے۔ اس کے سامنے اپنے بھائی کی بے جان لاش پڑی تھی، مگر اسے یہ علم نہیں تھا کہ مردے کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ نہ اس سے پہلے کبھی اس نے کسی کو مرتے دیکھا تھا اور نہ دفنانے کا کوئی طریقہ جانتا تھا۔ وہ لاش کو کبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ گھسیٹتا، کبھی چھوڑ دیتا، اور دل ہی دل میں خوف اور ندامت کا شکار ہوتا جا رہا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے قابل کی اس حالت کو دیکھ کر اس کی رہنمائی کے لیے ایک نشانی بھیجی۔ قرآن کے مطابق اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کو کریدنے لگا۔ وہ کوّا اپنے ہی جیسے ایک مردہ کوّے کو زمین میں دفنانے کا طریقہ دکھا رہا تھا۔ قابل یہ منظر خاموشی سے دیکھتا رہا۔ اس نے دیکھا کہ کس طرح کوّا زمین کھودتا ہے، مردہ کو اس میں رکھتا ہے اور پھر مٹی ڈال کر اسے چھپا دیتا ہے۔ یہ منظر قابل کے لیے ایک زبردست صدمہ اور سبق تھا۔
اس وقت قابل کے دل پر شدید شرمندگی طاری ہو گئی۔ اس نے افسوس کے ساتھ کہا کہ ہائے افسوس، میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا سکوں۔ یوں اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے نہ صرف ایک بے گناہ انسان کا خون بہایا ہے بلکہ وہ علم اور عقل میں ایک پرندے سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ یہ ندامت اگرچہ اس کے دل میں پیدا ہوئی، مگر وہ اپنے کیے ہوئے جرم کو واپس نہیں لے سکتا تھا۔
اس کے بعد قابل نے کوّے کی نقل کرتے ہوئے زمین کھودی اور اپنے بھائی ہابیل کی لاش کو اس میں رکھ کر مٹی ڈال دی۔ یوں دنیا میں پہلی بار کسی انسان کو دفن کیا گیا۔ یہ عمل اس کے لیے سکون کا باعث نہ بنا بلکہ اس کے دل کا بوجھ اور بڑھ گیا، کیونکہ ضمیر کی خلش اور گناہ کا احساس اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گیا تھا۔
یہ واقعہ انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی واقعے کے بعد یہ اصول بیان فرمایا کہ جس نے ناحق ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ ہابیل کے قتل کے بعد دفنانے کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جرم کے بعد شرمندگی تو آ سکتی ہے، مگر اصل نجات صرف تقویٰ، صبر اور اللہ کی اطاعت میں ہے، نہ کہ حسد اور غصے کے راستے میں۔



0 Comments