حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ
حضرت آدم علیہ السلام انسانوں کے پہلے نبی اور پہلے انسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق ایک خاص مقصد کے تحت فرمائی اور انہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنایا۔
انسان کی تخلیق کا اعلان
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ وہ زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ کیا وہاں ایسی مخلوق بنائی جائے گی جو فساد کرے اور خون بہائے، جبکہ ہم تیری تسبیح اور پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
حوالہ
سورۃ البقرہ، آیت 30
آدم علیہ السلام کی مٹی سے تخلیق
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا۔ کہیں مٹی، کہیں چکنی مٹی اور کہیں سیاہ مٹی کا ذکر آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصل مٹی ہے۔
حوالہ جات
سورۃ الحجر، آیت 26
سورۃ ص، آیت 71
سورۃ الاعراف، آیت 12
روح پھونکنا
جب آدم علیہ السلام کا جسم تیار ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ روح پھونکے جانے کے بعد آدم علیہ السلام زندہ ہوئے۔
حوالہ
سورۃ الحجر، آیت 29
سورۃ ص، آیت 72
علم کی فضیلت
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھائے۔ پھر فرشتوں کے سامنے وہ چیزیں پیش کیں اور ان سے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ۔ فرشتے عاجز آگئے اور آدم علیہ السلام نے سب نام بتا دیے۔ اس طرح آدم علیہ السلام کی فضیلت ظاہر ہوئی۔
حوالہ
سورۃ البقرہ، آیات 31 تا 33
فرشتوں کو سجدے کا حکم
اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کیا۔ اس نے تکبر کیا اور کہا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم مٹی سے۔ اس نافرمانی پر ابلیس کو مردود قرار دے دیا گیا۔
حوالہ جات
سورۃ البقرہ، آیت 34
سورۃ الاعراف، آیت 11
سورۃ طٰہٰ، آیت 116
جنت میں قیام اور آزمائش
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت میں رکھا اور فرمایا کہ ہر چیز کھاؤ مگر ایک درخت کے قریب نہ جانا۔ شیطان نے وسوسہ ڈالا اور دونوں سے لغزش ہوگئی۔ اس پر انہیں زمین پر اتار دیا گیا۔
حوالہ جات
سورۃ البقرہ، آیات 35 تا 36
سورۃ الاعراف، آیات 19 تا 24
توبہ اور ہدایت
حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کی۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور فرمایا کہ جب میری ہدایت آئے تو جو اس کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہ ہوگا۔
حوالہ جات
سورۃ البقرہ، آیت 37
سورۃ طٰہٰ، آیات 122 تا 123
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ قرآنِ مجید میں بڑی وضاحت اور حکمت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو سب سے پہلے فرشتوں کو بتایا کہ وہ زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ اے اللہ! کیا تو ایسی مخلوق کو زمین میں بسائے گا جو وہاں فساد کرے گی اور خون بہائے گی، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور تجھے پاک مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اس اعلان سے یہ واضح ہوا کہ انسان کی تخلیق ایک عظیم مقصد کے تحت ہے اور اللہ کی حکمت فرشتوں کی سمجھ سے بھی بلند ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا۔ قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر انسان کی تخلیق کے لیے مٹی، چکنی مٹی، خشک مٹی اور سیاہ مٹی کے الفاظ آئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق زمین کے مختلف اجزاء سے ہوئی۔ جب آدم علیہ السلام کا جسم مکمل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ روح پھونکے جانے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام زندہ ہوئے، سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کی گئی۔ یہ لمحہ انسان کی عظمت کی ابتدا تھا، کیونکہ روح کے ساتھ انسان کو شعور اور عقل بھی عطا کی گئی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو خاص علم عطا فرمایا۔ اللہ نے انہیں تمام چیزوں کے نام سکھائے، پھر وہ چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کیں اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے عاجزی سے عرض کیا کہ ہمیں وہی علم ہے جو تو نے ہمیں سکھایا ہے، ہم اس سے زیادہ نہیں جانتے۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام نے وہ تمام نام بتا دیے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ آدم علیہ السلام کو علم کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے اور یہی علم انسان کی اصل پہچان ہے۔
بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ یہ سجدہ عبادت کا نہیں بلکہ تعظیم اور احترام کا سجدہ تھا۔ تمام فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی، مگر ابلیس نے انکار کر دیا۔ اس نے تکبر کیا اور کہا کہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور آدم مٹی سے، اس لیے میں اس سے بہتر ہوں۔ اس نافرمانی اور غرور کی وجہ سے ابلیس اللہ کی رحمت سے محروم ہوگیا اور مردود قرار پایا۔ یہی واقعہ انسان کے لیے ایک بڑا سبق ہے کہ تکبر انسان کو برباد کر دیتا ہے، چاہے اس کے پاس کتنا ہی علم یا عبادت کیوں نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت میں رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہاں کی ہر چیز کھاؤ پیو مگر ایک خاص درخت کے قریب نہ جانا۔ شیطان نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے دونوں کو بہکایا اور وسوسہ ڈالا۔ اس کے بہکاوے میں آکر حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام سے لغزش ہوگئی اور انہوں نے اس درخت سے کھا لیا جس سے منع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں زمین پر اتار دیا گیا تاکہ یہاں ایک مقررہ مدت تک رہیں اور اپنی زندگی گزاریں۔
زمین پر آنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام نے فوراً اپنی غلطی کا احساس کیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کی۔ انہوں نے وہ کلمات پڑھے جو اللہ تعالیٰ نے خود انہیں سکھائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ جب بھی میری طرف سے ہدایت آئے تو جو اس کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت، اور جو ہدایت سے منہ موڑے گا اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی۔
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا یہ مکمل واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل عزت اس کے علم، اطاعت اور عاجزی میں ہے۔ شیطان کا انجام تکبر کی وجہ سے عبرت بنا، جبکہ حضرت آدم علیہ السلام کو توبہ اور رجوع الی اللہ کی وجہ سے بلند مقام عطا ہوا۔ یہ واقعہ ہر انسان کے لیے ہدایت، اصلاح اور سبق کا ذریعہ ہے، جو قیامت تک باقی رہے گا۔
شیطان کا حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کا واقعہ قرآنِ مجید میں بہت واضح اور عبرت ناک انداز میں بیان
ہوا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا، ان کا جسم مکمل کیا اور اس میں روح پھونکی تو اللہ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ یہ سجدہ عبادت کے لیے نہیں تھا بلکہ تعظیم اور اللہ کے حکم کی اطاعت کے طور پر تھا۔ تمام فرشتوں نے بغیر کسی تردد کے فوراً سجدہ کیا، کیونکہ وہ اللہ کے ہر حکم کے پابند تھے اور ان میں نافرمانی کی صفت نہیں تھی۔
شیطان، جسے قرآن میں ابلیس کہا گیا ہے، اس حکم کے وقت فرشتوں کے ساتھ موجود تھا۔ وہ اصل میں جنوں میں سے تھا مگر اپنی عبادت کی وجہ سے فرشتوں کی صف میں شامل تھا۔ جب سجدے کا حکم آیا تو اس نے انکار کر دیا۔ اس کے انکار کی اصل وجہ تکبر تھی۔ اس نے اپنے آپ کو حضرت آدم علیہ السلام سے بہتر سمجھا اور کہا کہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور آدم مٹی سے بنائے گئے ہیں، اس لیے میں ان سے اعلیٰ ہوں۔ اس نے مخلوق کے فرق کو بنیاد بنا کر اللہ کے واضح حکم کو رد کر دیا۔
اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے سوال کیا کہ جب میں نے تجھے حکم دیا تھا تو تو نے سجدہ کیوں نہ کیا۔ اس کے جواب میں ابلیس نے معافی مانگنے کے بجائے اپنے غرور کو مزید ظاہر کیا اور اپنی برتری کا دعویٰ کیا۔ یہی ضد اور تکبر اس کے زوال کا سبب بنے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نافرمانی پر اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور فرمایا کہ تو مردود ہے اور قیامت تک تجھ پر لعنت ہے۔ اس طرح ابلیس ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہو گیا۔
ابلیس نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی کہ اسے قیامت تک زندہ رکھا جائے تاکہ وہ انسانوں کو گمراہ کر سکے۔ اللہ نے اسے مہلت دے دی، مگر ساتھ ہی یہ واضح کر دیا کہ وہ اللہ کے سچے بندوں کو گمراہ نہیں کر سکے گا۔ اس کے بعد ابلیس نے اعلان کیا کہ وہ انسان کے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں سے آ کر اسے بہکائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ گمراہ ہوں۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے عقل، نسل یا مٹی اور آگ کا فرق کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اصل کامیابی اطاعت اور عاجزی میں ہے۔ شیطان عبادت گزار ہونے کے باوجود تکبر کی وجہ سے ناکام ہوا، جبکہ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ کے حکم، علم اور عاجزی کی وجہ سے عزت اور فضیلت عطا کی گئی۔ یہ واقعہ ہر انسان کے لیے واضح تنبیہ ہے کہ غرور انسان کو اللہ سے دور کر دیتا ہے اور عاجزی اسے اللہ کے قریب لے آتی ہے۔
جنت میں حضرت آدم علیہ السلام سے جو لغزش ہوئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے جو معاملہ فرمایا وہ سزا کے ساتھ ساتھ
تربیت اور ہدایت پر مبنی تھا۔ یہ واقعہ قرآنِ مجید میں نہایت حکمت کے ساتھ بیان ہوا ہے، تاکہ انسان سمجھ سکے کہ اللہ کی نافرمانی کا انجام کیا ہوتا ہے اور توبہ کی قبولیت کس طرح ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت میں رہنے کی اجازت دی اور فرمایا کہ جنت کی نعمتوں میں سے جہاں چاہو کھاؤ پیو، مگر ایک خاص درخت کے قریب نہ جانا۔ یہ دراصل ایک آزمائش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی واضح حکم دے دیا تھا، اس لیے اس حکم کی خلاف ورزی پر جواب دہی لازم تھی۔ جب دونوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر اس درخت سے کھا لیا تو فوراً ان پر ان کی غلطی ظاہر ہوگئی۔ قرآن بتاتا ہے کہ ان کا لباس ان سے اترنے لگا اور انہیں اپنی کمزوری اور خطا کا احساس ہوا۔ یہی احساس دراصل سزا کی پہلی شکل تھا، یعنی ضمیر کی بیداری۔
حضرت آدم علیہ السلام کو جو سزا دی گئی وہ یہ نہیں تھی کہ انہیں ہمیشہ کے لیے مردود کر دیا جائے، بلکہ انہیں جنت سے زمین پر اتار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تم زمین میں رہو گے، وہاں ایک مقرر وقت تک زندگی گزارو گے، اور وہیں تمہاری آزمائش ہوگی۔ زمین پر اترنا سزا بھی تھا اور انسانیت کے مقصد کی تکمیل بھی، کیونکہ آدم علیہ السلام کو پہلے ہی زمین کا خلیفہ بنانے کا اعلان کیا جا چکا تھا۔ اس طرح یہ سزا دراصل اصلاح اور ذمہ داری کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز تھی، نہ کہ دائمی عذاب۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیطان جنت میں داخل کیسے ہوا، حالانکہ وہ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے مردود ہو چکا تھا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کو جنت سے نکالا تو گیا، مگر اسے وسوسہ ڈالنے کی مہلت دے دی گئی۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت مانگی تاکہ وہ انسانوں کو گمراہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی، مگر یہ بھی فرما دیا کہ وہ میرے سچے بندوں پر قابو نہیں پا سکے گا۔ اسی اجازت کے تحت شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام تک رسائی حاصل کی اور وسوسہ ڈالا، چاہے وہ جنت کے اندر سے ہو یا باہر سے۔
شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو براہ راست نافرمانی پر نہیں اکسایا بلکہ نہایت چالاکی سے بات کی۔ اس نے کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں، اور یہ درخت تمہیں ہمیشہ کی زندگی یا ایسا فرشتہ بنا دے گا جو کبھی فنا نہیں ہوگا۔ اس نے اللہ کی قسمیں کھا کر کہا کہ میں تمہاری بھلائی چاہتا ہوں۔ حضرت آدم علیہ السلام چونکہ اس سے پہلے کسی جھوٹے کا سامنا نہیں کر چکے تھے، اس لیے اس کے دھوکے میں آ گئے۔ یوں شیطان نے حسد، لالچ اور ہمیشہ رہنے کی خواہش کے ذریعے انہیں لغزش کی طرف مائل کیا۔
لغزش کے فوراً بعد حضرت آدم علیہ السلام نے ضد یا تکبر نہیں دکھایا، جیسا کہ شیطان نے کیا تھا۔ انہوں نے فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی خطا تسلیم کی اور عرض کیا کہ اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں ہو جائیں گے۔ یہ عاجزی، ندامت اور توبہ اللہ تعالیٰ کو پسند آئی، چنانچہ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔
اس پورے واقعے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو جو سزا دی گئی وہ اصلاحی تھی، انتقامی نہیں۔ شیطان کا جرم تکبر اور ہٹ دھرمی تھا، جبکہ آدم علیہ السلام کی لغزش بھول اور انسانی کمزوری کی وجہ سے تھی۔ اسی لیے شیطان ہمیشہ کے لیے مردود ہوا، اور حضرت آدم علیہ السلام کو معافی، ہدایت اور نبوت عطا کی گئی۔ یہ واقعہ ہر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ گناہ کے بعد ضد تباہی لاتی ہے، اور توبہ انسان کو دوبارہ اللہ کے قریب کر دیتی ہے
۔
شیطان کے جنت میں داخل ہونے کے بارے میں قرآنِ مجید کسی ایک دروازے یا جسمانی راستے کا واضح ذکر نہیں کرتا، لیکن آیات اور مفسرین کی تشریحات سے یہ بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ شیطان کا اصل ہتھیار جسمانی داخلہ نہیں بلکہ وسوسہ تھا۔ وہ اللہ کی نافرمانی کے بعد جنت کی عزت اور مقام سے نکالا جا چکا تھا، مگر اسے انسان کو بہکانے کی مہلت دی گئی تھی۔ اسی مہلت کے تحت اس نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام تک رسائی حاصل کی۔
ایک رائے کے مطابق شیطان براہِ راست جنت کے اندر داخل نہیں ہوا بلکہ جنت کے قریب یا باہر رہ کر وسوسہ ڈالتا رہا۔ قرآن میں لفظ "وسوسہ" آیا ہے، جس کا مطلب دل میں خیال ڈالنا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے آواز، خیال یا دل میں ڈالے گئے شک کے ذریعے حضرت آدم علیہ السلام کو بہکایا۔ اس کے لیے جنت کے اندر ہونا ضروری نہیں تھا، کیونکہ وسوسہ فاصلے کا محتاج نہیں ہوتا۔
کچھ مفسرین یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ شیطان نے کسی اور مخلوق کے ذریعے جنت میں اپنا اثر ڈالا۔ بعض روایات میں سانپ کا ذکر آتا ہے کہ شیطان نے اس کے ذریعے اپنا فریب پہنچایا، مگر یہ بات قرآن سے قطعی طور پر ثابت نہیں۔ اس لیے مضبوط بات یہی ہے کہ شیطان نے وسوسے اور دھوکے سے کام لیا، نہ کہ کسی جسمانی روپ میں جنت میں داخل ہو کر۔
شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو بہکانے کے لیے بہت نرمی اور چالاکی سے بات کی۔ اس نے پہلے دشمنی ظاہر نہیں کی بلکہ خیر خواہی کا دعویٰ کیا۔ قرآن بتاتا ہے کہ اس نے کہا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ پھر اس نے اللہ کی قسم کھا کر بات کی تاکہ اس کی بات پر یقین کیا جائے۔ یہ انسانی نفسیات پر اس کا پہلا وار تھا، کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے پہلے کسی کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا تھا۔
اس کے بعد شیطان نے لالچ کا سہارا لیا۔ اس نے کہا کہ یہ درخت تمہیں ہمیشہ کی زندگی دے دے گا یا تمہیں فرشتوں جیسا بنا دے گا جو کبھی فنا نہیں ہوتے۔ یوں اس نے ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش اور بلند مقام کا تصور دل میں ڈالا۔ یہ وہ کمزوری تھی جس کے ذریعے اس نے لغزش کی راہ ہموار کی، نہ کہ زبردستی یا کھلے حکم کی نافرمانی پر اکسانے سے۔
قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان انسان کے سامنے گناہ کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے اس درخت کو نقصان دہ کے بجائے فائدہ مند بنا کر دکھایا۔ اس طرح گناہ ایک اچھی چیز محسوس ہونے لگا۔ یہی شیطان کا سب سے خطرناک طریقہ ہے، کہ وہ برائی کو برائی کے طور پر پیش ہی نہیں کرتا۔
اس پورے واقعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شیطان جنت میں کسی طاقت یا اجازت کے ساتھ داخل نہیں ہوا تھا، بلکہ اسے وسوسہ ڈالنے کی اجازت ملی تھی۔ اس نے اسی اجازت کو استعمال کیا اور دھوکے، قسموں، لالچ اور خیر خواہی کے جھوٹے دعووں کے ذریعے حضرت آدم علیہ السلام کو لغزش کی طرف مائل کیا۔ یہ واقعہ ہر انسان کے لیے واضح سبق ہے کہ شیطان کا اصل راستہ دل اور خیال ہوتا ہے، اور اس سے بچنے کا واحد طریقہ اللہ کے حکم کو یاد رکھنا اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کا زمین پر آنا کوئی اچانک یا بے مقصد واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ اللہ کے طے شدہ منصوبے کے تحت ہوا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام سے جنت میں لغزش ہوئی اور انہوں نے ممنوعہ درخت سے کھا لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تم سب یہاں سے نیچے اترو۔ قرآن کے مطابق آدم، حوا اور شیطان سب کو زمین پر بھیجا گیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ زمین تمہارا ٹھکانہ ہوگی اور ایک مقررہ وقت تک تمہیں وہیں زندگی گزارنی ہوگی۔ یہ اترنا صرف سزا نہیں تھا بلکہ انسان کی اصل ذمہ داری، یعنی زمین پر خلافت، کا آغاز بھی تھا۔
روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام جب زمین پر آئے تو ابتدا میں ایک دوسرے سے جدا کر دیے گئے۔ حضرت آدم علیہ السلام ایک جگہ اترے اور حضرت حوا علیہا السلام دوسری جگہ۔ اس جدائی کا مقصد بھی تربیت تھا تاکہ انہیں اپنی لغزش کا پورا احساس ہو۔ زمین پر آتے ہی انہیں جنت کی راحتوں کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ یہاں محنت تھی، بھوک تھی، پیاس تھی اور موسموں کی سختی تھی۔ یہی وہ زندگی تھی جس کے ذریعے انسان کو آزمائش سے گزرنا تھا۔
زمین پر آنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام سخت ندامت میں مبتلا ہو گئے۔ وہ دن رات اپنی غلطی کو یاد کرتے، روتے اور
اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہے۔ نہ انہوں نے اپنے فعل کا الزام کسی اور پر ڈالا اور نہ ہی تکبر دکھایا۔ وہ مسلسل اللہ کے حضور جھکتے رہے اور دل سے اعتراف کرتے رہے کہ ان سے خطا ہو گئی ہے۔ یہی رویہ انہیں شیطان سے بالکل مختلف کرتا ہے، کیونکہ شیطان نے نافرمانی کے بعد بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تڑپ، عاجزی اور سچی ندامت کو دیکھا تو انہیں توبہ کے کلمات سکھائے۔ قرآن بتاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے یہ کلمات پڑھے کہ اے ہمارے رب، ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں ہو جائیں گے۔ یہ الفاظ محض زبان سے نہیں تھے بلکہ دل کی گہرائی سے نکلے ہوئے تھے۔
جب حضرت آدم علیہ السلام نے سچے دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ توبہ قبول ہونے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو یہ یقین عطا کیا گیا کہ وہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں اور اللہ نے انہیں مایوس نہیں کیا۔ اس کے ساتھ یہ اصول بھی بیان کیا گیا کہ
زمین پر آنے والی ہر اولاد کے لیے ہدایت بھیجے گا، اور جو اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ کامیاب ہوگا۔
مغفرت کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔ اب وہ زمین پر اللہ کے نبی اور پہلے انسان کی حیثیت سے رہنے لگے۔ انہیں زندگی گزارنے کے طریقے سکھائے گئے، محنت، رزق، نکاح اور اولاد کا سلسلہ شروع ہوا۔ یوں انسان کی زمینی زندگی کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ اور اللہ کی رحمت کے ساتھ ہوا، تاکہ قیامت تک آنے والا ہر انسان یہ سمجھے کہ گناہ کے بعد مایوسی نہیں بلکہ سچی توبہ نجات کا راستہ ہے۔
یہ پورا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان سے خطا ہو جانا اس کی فطرت ہے، مگر خطا پر اڑ جانا تباہی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی زمین پر آمد، ان کی ندامت اور ان کی توبہ کی قبولیت ہر انسان کے لیے امید، اصلاح اور ہدایت کا پیغام
ہے۔









0 Comments